جمعرات‬‮   29   فروری‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

پروپیگنڈے کی جنگ

       
مناظر: 600 | 25 Jan 2024  

 

سیاسی وگروہی مفادات کی کشمکش میں ہم یکسر بھول بیٹھے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک ہمارا دشمن بھی ہے ، جس کے ساتھ ازل سے بقا کی جنگ جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دونوں موجود ہیں ۔ یہ غلط ہے کہ بھارت سے صرف کشمیر کا تنازع ہے ، سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کا تنازع بھی صرف اس وجہ سے ہے کہ ہمارا ان سے کلمے اور شناخت کا جھگڑا ہے،وہ ہمیں ماننے کو تیار نہیں ،مٹانے کےدرپئے ہیں ۔ ہمیں بھی خبر ہے کہ بقا کا راز اسی کشمکش میں ہے ، جس دن ہمت ہار گئے ، تھک کر بیٹھ رہے ، وجود کھو دیں گے، بکھر کر رہ جائیں گے ، فضاوں میں تحلیل ہوجائیں گے۔لازم ہے کہ مستعد رہیں ، با خبر اور ہر دم ہر ناگہانی سے نمٹنےکے لئے تیار بھی ،وگرنہ تاریخ کے قبرستان میں بھی شائد دو سطرکی قبر تک نہ مل پائے ۔المیہ مگر یہ ہے کہ نا صرف سیاسی مداری اس اپنی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں بلکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی سیاسی نسل تیار کردی گئی ہے ، جس کی دلیل صرف گالی ،دانش صرف دشنام اور سیاست صرف الزام تراشی ہے۔پہلے والے بھی کوئی پارسا نہ تھے ، وہ بھی مفادات کے اسیر ،اختیارات کے حریص اور لوٹ مار کے انہی کی طرح رسیا تھے ، ورنہ انہیں کیوں موقع ملتا ، لیکن وطن کے معاملہ میں کم ازکم ان کے زبان وبیاں میں حیاء باقی تھی ، کچھ نہ کچھ شرم اور اخلاقیات کا پاس وہ رکھتے تھے ۔ یہ تو سب کچھ سے تہی دست وتہی دامن ہیں ۔ جھوٹ کے گھوڑے پر سوار ،دشمن کے ہر پروپیگنڈے میں بلا تنخواہ پیادے کی طرح استعمال ہونے اور دست وبازو بننے کو تیار ، جو بھی پاکستان کے خلاف تھوتھنی اٹھاتا ہے ، انہیں ہمنوا پاتا ہے ، بلکہ اطلاعات تو یہ ہیں کہ دشمن ان احمقوں کو اپنا اثاثہ قرار دیتا ہے اور کسی بھی منصوبہ بندی میں انہیں طے شدہ حلیف سمجھتا ہے ۔ نام نہاد بلوچ یکجہتی کونسل کا ملک دشمن دھرنا دیکھ لیں ، سوشل میڈیا پر تجزیہ کرلیں ، یہی سیاسی یتیم دشمن کی بولی بولتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کوئی بکواس کرے ، یہ اس کے ساتھ ، ایران نے شرارت کی یہ اس کے حمائتی ، امریکہ بغض دکھائے تو یہ اس کے معاون ، یعنی بنیادی اصول اور معیار ملک دشمنی ہے،اپنا کوئی ایجنڈا کوئی موقف ، کوئی سیاست سرے سے ہے ہی نہیں ۔ الیکشن سر پر ہیں ، پورا ملک پر امن انتخابات کے لئے دعا گواور کوشاں ہے ، لیکن ان کی تگ ودو کا واحد مقصد فساد اور صرف فساد ہے ۔ حکومتی چھتری سے محروم ہوتے ہی ملک سے چوہوں کی طرح فرار ہونے والے سوشل میڈیا واریئرہر روز،ہر لمحہ ملک میں مایوسیاں کاشت کرنے اور تصادم کی راہ ہموار کرنے میں لگے ہیں ۔ یہاں زومبیوں جیسی سوچ کے حامل کارکن ، نہ صرف ان کی ہفوات کو وائرل کرکے حرام کی کمائی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ اپنے ہی وطن کی بدنامی اور رسوائی میں کردار ادا کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ایک وہ سابق بیوروکریٹ ہے ، جس نے دین فروشی کی باقاعدہ دکان کھول رکھی ہے ، نت نئے جھوٹ اور ہر لمحہ نئے الزامات کے ساتھ قوم کو گمراہ کرنے کا گویا اس نے ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ آج تک کسی سیاسی جماعت تو کیا کسی ملک دشمن قوم پرست جماعت نے بھی اتنا جھوٹ نہیں پھیلایا ہوگا ، جتنا اب پھیلایا جا رہا ہے ۔کوئی شخصیت، کوئی ا دارہ ان کے شر سے محفوظ نہیں ، مردوں سے لے کر زندہ تک ہر ایک ان کی زبان درازی کی زدمیں ہے ۔ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم پڑھےلکھے لوگ ہیں ، لیکن زبان وکردار دیکھیں تو بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ انہیں شائد علم کی ہوا بھی نہیں لگی۔ منظم انداز میں باجماعت گالیاں دیناان کا مشغلہ ہی نہیں ، باقاعدہ اس پر فخر کیا جاتا ہے ، ایک دوسرے کو سراہا جاتا ہے ۔ بعد از خرابی بسیار ہی سہی عدلیہ کی توہین پر کمیٹی بنائی گئی ہے ، جس نے سنا ہے کہ کوئی ضابطہ اخلاق بنایا ہےاور بعض شر پسندوں کی پروفائلنگ بھی کی ہے ، امکان ہے کہ شائد گرفتاریاں بھی ہوں ، یقینا ً اس پر اندرون ملک اور بیرون ملک سے آزادی اظہار کے نام نہاد ٹھیکیداروں کا شور غوغا اٹھے گا ، نام لے کر بتایا جا سکتا ہے کہ اندرون ملک سے کون ،کس ملک کے ایما پر، کیا کہے گا؟ لیکن سچ تو یہ ہے کہ آزادی اظہار کی آڑ میں ملک اور اداروں کے خلاف عالمی سازشوں کو پروان چڑھنے کی اجازت کسی قیمت پر نہیں دی جا سکتی ۔ بات شروع ہوئی تھی ، پڑوسی ملک سے کہ جس کے ساتھ ہمارا ایک ہی رشتہ ہے ، بقا کی جنگ کا رشتہ ہے۔ ذکر دشمن کا چھڑا مگر داستاں اس کے آلہ کاروں کی نوک قلم پر آگئی۔ خبر ہے اور مصدقہ خبر ہے کہ دہلی کے دشمن اپنے الیکشن کی خاطر پاکستان کے خلاف ابلاغی جارحیت شروع کرنے جاہے ہیں، جس میں پاکستان کی ان بے دماغ زومبیوں کو اپنے اثاثہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔دستیاب اطلاعات کے مطابق سرحد پار کے دشمنوں کا منصوبہ ہے کہ پاکستان کے اندرونی مسائل ، ابہامات اور ناراضگیوں کو استعمال کرتے ہوئے میڈیا اور سوشل میڈیا کا اک طوفان بپا کردیا جائے جس میں سچ جھوٹ کی دھول میں چھپ جائے۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ دشمن پاکستان کے خلاف جھوٹ کا طوفان اٹھانے چلا ہے ۔ اس سے قبل بھی یہ حملے پاکستان پرہوتے آئے ہیں ، بھارت کا الیکشن ہو اور پاکستان کو ہدف نہ بنایا جائے ، ممکن ہی نہیں ۔
(عریضہ /سیف اللہ خالد)