اتوار‬‮   25   فروری‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

بھارت میں غریبوں کا زندہ رہنا ناممکن ہو گیا ، ملک کی 40 فیصد سے زیادہ دولت ایک فیصد کے پاس

       
مناظر: 681 | 17 Jan 2023  

ممبئی (نیوز ڈیسک ) آکسفیم کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 میں انڈیا کی مجموعی دولت کا 40 عشاریہ پانچ فیصد سے زیادہ حصہ ملک کے صرف ایک فیصد دولت مند لوگوں کے پاس رہا ہے۔ جبکہ غریب طبقہ ’زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 میں ملک میں ارب پتیوں کی تعداد 102 سے بڑھ کر 166 ہو گئی ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا میں غریب طبقہ ’زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ‘
آکسفیم نے انڈیا کے وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ’شرمناک‘ عدم مساوات سے نمٹنے کے لیے انتہائی دولت مندوں پر ویلتھ ٹیکس لگائے۔
’سروائیول آف دی ریچسٹ‘ نام کی یہ رپورٹ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں انڈیا میں دولت کی تقسیم میں بڑے فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2012 سے 2021 تک ملک میں آنے والی 40 فیصد سے زیادہ دولت صرف 1 فیصد آبادی کے پاس چلی گئی تھی جبکہ صرف 3 فیصد نچلی سطح کی 50 فیصد آبادی تک پہنچی تھی۔ 2022 میں، انڈیا کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی دولت میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ انڈیا کے 100 امیر ترین افراد کی مشترکہ دولت 660 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ 2022 میں، اڈانی بلومبرگ کے دولت کے انڈیکس میں دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص تھے۔ وہ ان لوگوں کی فہرست میں بھی سرفہرست رہے جن کی دولت میں عالمی سطح پر اس سال سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دریں اثنا، آکسفیم نے کہا ہےکہ ملک کے غریب اور متوسط طبقے پر امیروں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں’گڈز اینڈ سروسز ٹیکس‘ (جی ایس ٹی) کا تقریباً 64 فیصد نیچے کی 50 فیصد آبادی سے آیا، جبکہ صرف 4 فیصد، دس فیصد دولت مندوں سے آیا ہے۔ آکسفیم انڈیا کے سی ای او امیتابھ بہار نے کہا، ’بدقسمتی سے انڈیا تیزی سے صرف امیروں کا ملک بننے راستے گامزن پر ہے‘۔
’ملک کے پسماندہ ۔ دلت، آدیواسی، مسلمان، خواتین اور غیر رسمی شعبے کے مزدور ایک ایسے نظام میں مسلسل مشکلات کا شکار ہیں جو امیر ترین لوگوں کی بقاء یا انکے مفادات کو یقینی بناتا ہے‘۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فی الحال، دولت مند لوگ ، کم کارپوریٹ ٹیکس، ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اس فرق کو درست کرنے کے لیے آکسفیم نے وزیر خزانہ سے کہا کہ وہ آئندہ بجٹ میں ترقی پسند ٹیکس اقدامات جیسا کہ ویلتھ ٹیکس کو نافذ کریں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے ارب پتیوں کی پوری دولت پر محض 2 فیصد ٹیکس اگلے تین سالوں تک ملک کی غذائی قلت کی شکار آبادی کی بھوک مٹانے کے لیے کافی ہوگا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ’ایک فیصد ویلتھ ٹیکس نیشنل ہیلتھ مشن کو فنڈ دے سکتا ہے، جو کہ 1.5 سال سے زیادہ عرصے کے لیے انڈیا میں صحت کی دیکھ بھال کی سب سے بڑی سکیم ہے۔
ادارے نے کہا کہ سرفہرست 100 انڈین ارب پتیوں پر 2.5 فیصد ٹیکس لگانا یا 5 فیصد دولت مند 10 انڈین ارب پتیوں پر ٹیکس لگانے سے تقریباً 150 ملین بچوں کو سکول میں واپس لانے کے لیے جو رقم درکار ہے وہ حاصل ہو جائے گی۔ آکسفیم انٹرنیشنل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر گیبریلا بوچر نے کہا ’اب وقت آگیا ہے کہ ہم اِس ’افسانے یا نظریے‘ کو ختم کر دیں کہ ان کی دولت مند لوگوں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے سے کسی نہ کسی طرح نچلی سطح کے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’عدم مساوات کو کم کرنے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے‘ دولت مندوں پر ٹیکس لگانا ضروری ہے‘۔