جمعرات‬‮   29   فروری‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

سینیٹ کی قرارداد کے آگے پیچھے کوئی بھی ہو الیکشن 8 فروری کو ہوں گے، مریم اورنگزیب

       
مناظر: 928 | 6 Jan 2024  

 

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سینیٹ کی قرارداد کے آگے پیچھے کوئی بھی ہو الیکشن شیڈول پر عمل ہو گا، دوسری جماعتیں روئیں یا چیخیں، الیکشن 8 فروری کو ہوں گے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ سینیٹ میں قرارداد جو گزشتہ روز منظور ہوئی صرف اس کی ن لیگ نے مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو الیکشن کے دوران بیٹی کے ساتھ جیل بھیجا گیا، سازش کے تحت پہلے لاہور ہائی کورٹ گئے، پھر سینیٹ قرارداد کا ساتھ دیا، یہ لوگ اندر چپ رہتے ہیں اور باہر ڈھول پیٹتے ہیں۔
مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ یہ ڈھیل ان کو تب ملی جب 9 مئی کے دہشت گرد کو گڈ ٹو سی یو کہا گیا، 9 مئی کو پورے ملک کو جلانے کا کہا، پھر کہا کارکنوں نے یہ کیا، اب کارکن بھگت رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہا کہ جیلوں میں بیٹھ کر دھمکیاں دینا بند کرو، ان لوگوں کو پاکستان کے عوام ووٹ نہیں دیں گے، پاکستان کے عوام کو الیکشن چاہئیں، صرف نواز شریف کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی۔
ان کا کہنا ہے کہ 9 مئی والوں پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، مسلم لیگ ن الیکشن کے لیے پوری طرح تیار ہے، پی ٹی آئی والے لاہور ہائی کورٹ گئے تاکہ الیکشن رک جائیں، جیب سے سائفر نکالتا ہے اور کہتا ہے محسن نقوی نے میری حکومت گرائی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ آپ نے معیشت کو تباہ کیا، عوام کو بےروزگار کر دیا، روٹی مہنگی کی، ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے شہباز شریف نے بچایا، آپ نے تو ڈیفالٹ کیا، گزشتہ روز پی ٹی آئی نے سینیٹ میں قرارداد کی حمایت کی، ن لیگ کو الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق 8 فروری کو فیصلہ چاہیے، فیصلہ پاکستان کے عوام کو کرنا ہے۔
ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ ہم اسمبلیوں کے باہر ڈرامے کرنے والے نہیں ہیں، نواز شریف نے جیسے پہلے لوڈ شیڈنگ، مہنگائی ختم کی دوبارہ کریں گے، وہ خوشحالی اور ترقی کے دن واپس لائیں گے، مسلم لیگ ن کےجلسوں کا اگلے ہفتے شیڈول طے ہو گا۔
دوسری جانب مریم اورنگزیب نے اشتعال انگیز گفتگو کرنے کے مقدمے میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے روبرو پیش ہو کر حاضری مکمل کرائی۔ عدالت نے مریم اورنگزیب کو حاضری مکمل کرا کر واپس جانے کی اجازت دے دی۔