جمعرات‬‮   29   فروری‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

عمران خان کاصدرکوخط،حملےکےذمہ داروں کے محاسبےکامطالبہ

       
مناظر: 862 | 30 Nov 2022  

اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو خط لکھ کر ملک میں آئین و قانون کے انحراف کی راہ روکنے کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت کو گرایا گیا ہے،قوم میری حقیقی آزادی کی پکارپر کھڑی ہوچکی ہے،ہمیں جھوٹے الزامات، حراسگی، بلاجواز گرفتاریوں حتیٰ کہ زیر حراست تشدد جیسے ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔عمران خان نے وزیراعظم، وزیر داخلہ سمیت تین اعلیٰ شخصیات کا نام لے کر کہا کہ ان کا میرے قتل کا منصوبہ میرے علم میں آیا، گزشتہ ہفتے مارچ کے دوران اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی، اللہ نے مجھے بچایا۔
عمران خان نے کہا کہ بطور سربراہ ریاست اور افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر کے طور پر آپ سے التماس ہے کہ قومی سلامتی سے جڑے ان معاملات کا فوری نوٹس لیں، اپنی قیادت میں ذمہ داروں کے تعین کیلئےتحقیقات، ان ذمہ داروں کے محاسبے کا اہتمام کریں۔عمران خان کاکہناتھاکہ بطوروزیراعظم میرے، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کےمابین گفتگومیڈیا کو جاری کرکے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں، سنجیدہ ترین سوال پیدا ہوتا ہےکہ وزیراعظم کی محفوظ گفتگوپرنقب لگانےکاذمہ دار کون ہے، وزیراعظم کی محفوظ لائن پر یہ نقب قومی سلامتی پر اعلیٰ ترین سطح کا حملہ ہے۔
عمران خان نےکہاکہ میری وزارت عظمیٰ کےدوران سائفرپرقومی سلامتی کمیٹی کااجلاس ہواجس میں واضح فیصلہ کیا گیا کہ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں ناقابل قبول مداخلت ہے، شہباز شریف حکومت میں قومی سلامتی کے اجلاس میں اس اجلاس کی کارروائی/فیصلوں کی توثیق کی، مگر 27 اکتوبر کو ڈی جیز نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں قومی سلامتی کمیٹی کےدونوں اجلاسوں کے فیصلوں سے یکسر متضاد نکتہ نظر اپنایا گیا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ دو افسران کیونکر کھلے عام قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کو جھٹلا سکتے ہیں، اس پریس کانفرنس سے جان بوجھ کر غلط بیانیے کی تخلیق کی کوشش کا سنجیدہ ترین معاملہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ دو اہم ترین سوالات بھی جنم لیتے ہیں، اوّل یہ کہ ایجنسی کا سربراہ پریس کانفرنس سے مخاطب ہو کیسے سکتا ہے،دو افسران کیسے سیاسی جماعت کےسربراہ کونشانہ بنا سکتے ہیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ آئی ایس پی آرکےحدودکارکودفاعی و عسکری معاملات پر معلومات کے اجراء تک محدود کرنے کی ضرورت ہے، افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر کے طورپرآپ سے التماس ہے کہ آپ آئی ایس پی آر کی حدود کار کے تعین کے عمل کا آغاز کریں۔