اتوار‬‮   14   اپریل‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

بھارتی جنگی جرائم کیخلاف پاسبانِ حُریت جموں کشمیر کا احتجاجی پیدل مارچ کا اعلان

       
مناظر: 574 | 23 Dec 2022  

مظفرآباد (نیوز ڈیسک ) بھارتی جنگی جرائم کیخلاف تادیبی اقدامات کے مطالبے کیلئے پاسبانِ حُریت جموں کشمیر نےسیز فائر لائن پر پیدل مارچ کا اعلان کردیا۔اقوام متحدہ ریاست جموں کشمیر میں حق خودارادیت کے وعدوں کو پورا کرے۔ پاسبان حریت جموں کشمیر کے راہنماؤں کی پریس کانفرنس دارالحکومت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاسبان حریت عزیراحمدغزالی،وائس چیئرمین انٹرنیشنل فورم فار جسٹس مشتاق السلام، وائس چیئرمین مین پاسبان حریت عثمان علی ہاشم اور محمد صدیق قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال کی طرف مبذول کرنے اور ریاست میں حق خودارادیت کے عمل کو پورا کرنے کے مطالبے کیلئے 27 دسمبر کو وادئ نیلم کے صدر مقام اٹھمقام سے پیدل مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔ جس میں پچھتر سالہ بھارتی فوجی قبضے کیخلاف 75 افراد بطور احتجاج اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف پیدل مارچ کریں گے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت نے پوری مقبوضہ ریاست کو دس لاکھ فوجیوں کے زریعے محصور کررکھا ہے ہزاروں قیدی بھارتی جیلوں میں تڑپ رہے ہیں کشمیری عوام کے تمام بنیادی انسانی حقوق بندوق کی طاقت سے چھین لیئے گئے ہیں ۔ ان حالات میں آزاد کشمیر کے چوالیس لاکھ عوام خاموش نہیں رہ سکتے، راہنماؤں نے کہا کہ 27 دسمبر کو پیدل مارچ کے زریعے اقوام متحدہ کی توجہ مقبوضہ ریاست کی بدترین صورتحال کی طرف مبذول کروائی جائے گی ۔ راہنماؤں نے وادیء نیلم کے عوام بالخصوص نوجوانوں سے ریاست کی وحدت اور شناخت کو بچانے کیلئے مارچ میں شریک ہونے کی اپیل کی۔ راہنماؤں نے مزید کہا کہ 5 جنوری یوم حق خودارادیت کے موقع پر دارالحکومت میں ایک بڑی عوامی ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔ جس کیلئے  ڈویژن کے ایک لاکھ لوگوں کو دعوت پہنچائی جائے گی۔ راہنماؤں نے مزید کہا کہ 5 جنوری کو بھارتی دہشتگردی اور مقبوضہ ریاست پر اسکے قبضے کیخلاف عوامی مزاحمت کو فعال بنانے کیلئے ایک ریفرنڈم ہوگا ۔ 5 جنوری کو عالمی مبصرین کو اہم قرارداد پیش کی جائے گی جس میں 5 اگست 2019 کو مقبوضہ ریاست میں بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے تمام غیر قانونی اقدامات کو عوامی تائید سے مسترد کرکے آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کا مطالبہ کیا جائے گا۔