جمعہ‬‮   24   مارچ‬‮   2023
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

ہندوستان کی پاکستان میں دہشت گردی

       
مناظر: 789 | 16 Dec 2022  

راجہ ذاکرخان
وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنسزمیں ہندوستان کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی کے کھلے شواہد پیش کیے ہیں، ان حقائق اور شواہد کی روشنی میں ہندوستان کو عالمی سطح پرکٹہرے میں کھڑا کیاجانا چاہیے اور ہندستان کو دہشت گردملک قراردلواکراس پر اقتصادی پابندیا ں عائد کی جانی چاہیے تاکہ دنیا کو دہشت گردی سے پاک کرکے پرامن بنایا کیاجاسکے۔ہندوستان نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے بلکہ اس کی دہشت گردانہ سرگرمیاں دیگر ممالک تک بھی پھیل چکی ہیں،چند ماہ قبل برطانیہ کے شہر ایسٹر میں بھی آرایس ایس کے غنڈوں نے مسلمانوں پر حملے کیے اور ایک مسجد کو بھی نشانہ بنانے کی سازش کی،ان غنڈوں کے حوالے سے کہاجارہاہے کہ نریندرمودی کی حکومت نے طلبہ کے روپ میں آرایس ایس کے غنڈوں کو ویزے جاری کرائے،جنھوں نے ایسٹر میں دہشت گردی کا ارتکارب کرکے برطانیہ جیسے ملک کو بھی شکارکیا۔سمھوتہ ایکسپریس اور پلوامہ واقعات کے حوالے سے خود ہندوستان کے اہل دانش اور سرکاری اہل کار کھلے بندو ں ا س کا اظہارکررہے ہیں کہ یہ ہندوستان کی اپنی کارستانی تھی اور الزام پاکستان پر لگا کر پاکستا ن کو دنیا میں بدنام کرنے کی سازش کی گئی۔اس طرح کے درجنوں دیگر واقعات ہیں جو ہندوستان نے خود کیے اور الزام پاکستا ن پر لگایا،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے اپنے شہریوں کو بھی قتل کررہاہے جو دہشت گردی کی بدترین شکل ہے۔ہندوستان اور اسرائیل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ کشمیراورفلسطین میں جنگی جرائم کے بھی مرتکب ہورہے ہیں،ہندوستان اور اسرائیل ریاستی دہشت گردی کرنے اور پھیلانے والے ممالک میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں،اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلا متی کونسل کی قراردادوں کو تسلیم نہ کرنا ا وران کی خلاف ورزیاں کرنے و الے ممالک میں ان کا پہلا نمبر ہے،ہندوستان ا وراسرائیل کی انسانیت کے خلاف جرائم کی ایک طویل فہرست ہے،اقوا م متحدہ کے چیپٹر 7پر فٹ بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی بیتی ہے۔ہندوستان کی قیادت اول روز سے پاکستان کے خلاف ریشادانیوں میں مصروف تھی مگر نریندرمودی اور اس کی فاسسٹ حکومت نے کھل کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا کام شرو ع کیاہواہے،نریندرمودی نے کھل کر کہاکہ ہندوستان نے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے بجٹ میں رقم مختص کی ہے،مودی ہر اس فرد کے ساتھ ہے جو پاکستان کے خلاف آوازبلند کررہاہے،پاکستان کے اندر اور کشمیرمیں مودی سرکار ان افراد کو فنڈز فراہم کرے گی جو پاکستان کے خلاف کام کریں گے۔یہ مودی اور ااس کی سرکار کاکھلااعلان ہے۔اس سے بڑی کھلی دہشت گردی اور کیاہوسکتی ہے؟حتیٰ کے پاکستان کو توڑنے کی بات کی اور بنگلہ دیشن میں جاکر کھلے عام اعلان کیاہے کہ مودی کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ پاکستان توڑنے میں مکتی باہنی کے دستوں میں اہم کردار کے طورپر شامل تھا۔ہندوستان نے بلوچستان،وانا وزیرستان کراچی اور پنجاب کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیراور مقبوضہ کشمیرمیں پاکستان کے خلاف زہر اگلابلکہ ایسی تنظیمو ں اور افراد کو مالی اور دیگر حوالوں سے معاونت کی تاکہ پاکستان کو کمزور کیاجاسکے۔مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی 15لاکھ قابض افواج نے تمام استعماری ہتھکنڈے استعمال کیے تاکہ کشمیریوں کو پاکستان سے بدزن کیاجائے اور کشمیریوں کو پاکستان سے مایوس کیاجائے،ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری پاکستان سے محبت اور آزادی کے لے پرعزم ہیں۔نریندر مودی ہٹلر ثانی کا روپ دھارکرجنوبی ایشیاکو مقتل گاہ بنانے کی راہ پر گامزن ہے،ہندوستان کے اندر 75کروڑ انسانوں کو ہندوتوا سوچ اورآر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق زبردستی ہندوبنانے کے عمل پرکاربند ہے،ہندوستان کے اندر فوجی تربیت دینے کے لیے نوجوانون کو بھرتی کیاجارہاہے تاکہ وہ فوج کے شانہ بشانہ دیگر اقلیتو ں کو قتل کیاجاسکے،ہندوستان کے مسلمان تو پہلے ہی مظالم کا شکار تھے مگر مودی کے آنے کے بعد ہندوستان کے اندر کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ہے۔عیسائی،دلت،مسلمان،شودرسمیت تمام اقلیات کو خطرات لاحق ہیں۔انسانی حقوق کے عالمی ادارے مودی ہٹلر کے عزائم سے دنیا کو اگاہ کرچکے ہیں اور مزید کررہے ہیں،نریندرمودی دہشت گردی کے ذریعے دنیا کو تیسری عالمگیر جنگ کی طرف دھکیل رہے رہا،عالمی دنیا نے مودی کو خطراناک عزائم اور متصبانہ اقدامات سے نہ روکااور ہندوستان کو دہشت گردی کرنے اورپھیلانے کا مجرم قراردے کر فوری کارروائی نہ کی تو دنیا تیسری عالمگیر جنگ سے دوچار ہوگی اور کروڑ وں انسان لقمہ اجل بن جائیں گے۔عالمی دنیا دہشت گردی کرنے اور پھیلانے کاجو بھی پیمانے اپنائے گی ہندوستان اس کے زمرے میں آئے گا۔نریندرمودی ہندو توا سوچ پر کار بند ہے اور ہندوستان خطرناک ملک بنتا جارہاہے،انسانوں کو جبری طورکسی بھی زمانے میں مذہب تبدیل کرنے کا کسی بھی گروہ اور جماعت نے یہ رویہ اختیارنہیں کیاجو ہندوستان کے اندر مودی سرکاراور اس کے گماشتے اختیارکیے ہوئے ہیں۔پاکستان نے مودی کے خطرناک عزائم کا ادراک کرتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے عالمی فورمز پر جانے کا احسن فیصلہ کیاہے۔پوری قوم کو یک جان اور یک زبان ہوکر ہندوستان کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔کشمیرکو آزادکرا کرپاکستان کاحصہ بناکر بنگلہ دیشن کا قرض چکانا ہوگا