اتوار‬‮   14   اپریل‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

جی20سربراہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں منعقد کرنے کی بھارتی کوشش

       
مناظر: 666 | 6 Mar 2023  

اطہر مسعود وانی
دنیا کی 20بڑی معیشتوں کے اتحادجی20کی صدارت گزشتہ سال کے آخر میں بھارت کے حصے میں آئی اور جی20کی 2023کانفرنس اس سال 9اور10ستمبر کو بھارت میں منعقد ہو گی۔جی20میں یورپی یونین،ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، بھارت، انڈونیشیا، اٹلی، جنوبی کوریا، جاپان، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ ، ترکی، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔2023 کی جی 20 کانفرنس کی مرکزی تقریب نئی دہلی میں منعقد ہونی ہے جبکہ جی20 کے مختلف اجلاس بھارت کے دیگر28شہروں میں منعقد ہوں گے۔بھارت نے جی20 کی صدارت سنبھالنے سے پہلے سے اعلان کیا کہ جی20کا ایک اجلاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے متنازعہ قرار دی گئی ریاست جموں وکشمیر میں بھی منعقد کی جائے گی۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ سرینگر میںجی20اجلاس کی تیاری کی جائے۔بھارت حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جی20اجلاس کے اعلان کے ساتھ ہی ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ سرینگر میں جی20اجلاس رکھنے کی صورت چین اور ترکی کی طرف سے اس پر اعتراض سامنے آ سکتا ہے۔یہ سمجھنا بالکل بھی مشکل نہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جی20اجلاس رکھنے سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔بھارت کی کی کوشش ہے کہ سرینگر میں دنیا کی 20بڑی معیشتوں کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر سے متعلق بھارتی حکومت کے5اگست 2019کے اقدامات کی تائید حاصل کی جائے۔ بھارت کے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ سرینگر میں جی20اجلاس منعقد کرنے سے بھارت کو مسئلہ کشمیر پر جی20 کے رکن ممالک کی حمایت حاصل ہو جائے گی۔تاہم یہاں بھارت کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سرینگر میں جی20اجلاس کے انعقاد کے لئے بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں وسیع پیمانے پر سخت ترین اقدامات کرنا پڑیں گے اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو بھی لگانا پڑے گا۔اس صورتحال میں جی20کے رکن ممالک کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے ظلم وستم کی صورتحال بھی بے نقاب ہو سکتی ہے اور اس صورت مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔اس لئے بھارتی حکومت نے سرینگر میں جی20اجلاس کی تیاری تو کی ہے لیکن اس بارے میں ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ کہیں جی20ممالک کی کشمیر سے متعلق بھارتی حمایت کے حصول کی کوشش میں یہ معاملہ الٹا بھارت کے گلے نہ پڑ جائے۔ 2 اور3مارچ کو نئی دہلی میں جی20کے رکن ممالک کی وزرائے خارجہ کانفرنس منعقد ہوئی۔اس وزرائے خارجہ کانفرنس کا موضوع لائف اسٹائل فار انوائرمنٹ تھا لیکن مغربی ممالک نے کوشش کی کہ اس اجلاس میں یوکرین کے مسئلے پر روس کی مخالفت کو کانفرنس کا مرکزی موضوع بنایا جائے۔مغربی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں کی گئی تقاریر بھی اسی حوالے سے رہیں۔مغربی ملکوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جی20کے صدر کی حیثیت سے روس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ ختم کرے۔خاص طور پر امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے اس بات پہ زور دیا کہ جی20وزرائے خارجہ کانفرنس میں روس سے جنگ بند کرنے اور یوکرین سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا جائے۔روس نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا جس سے جی20وزرائے خارجہ کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہ کیا جا سکا۔ روسی وزیر خارجہ سرجی لاوروف نے یوکرین کے معاملے کو کانفرنس کا مرکزی موضوع بنانے کی کوشش کی سختی سے مذمت کی اور اس معاملے پہ جی20ممالک اور خاص طور پر جی20کے صدر بھارت سے اس معاملے پر احتجاج کیا۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ کیا جی20نے عراق، لیبیا، افغانستان یا یوگوسلامیہ کے مسائل پر بات کی ہے جو یوکرین کے مسئلے پہ ایک فریق بننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس طرح جی20وزرائے خارجہ اجلاس میں یوکرین کے مسئلے پر جی20ممالک کے درمیان اختلاف رائے سے میزبان ملک اور جی20کے صدر بھارت کی پوزیشن نازک صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے اور اس کے اثرات اسی سال ستمبر میں جی20سربراہ اجلاس پہ بھی منفی انداز میں مرتب ہو سکتے ہیں۔جی20کی صدارت ہر سال خود کار طور پر تبدیل ہوتی ہے اور 2023کے لئے اس کی صدارت بھارت کے حصے میں آئی ہے۔جی20دنیا کے اقتصادی طور پر طاقتور ممالک کی تنظیم ہے جن کی عالمی پیداوار دنیا بھر کی عالمی پیداوار کا تقریبا80 فیصد ، بین الاقوامی تجارت75 فیصد،آبادی دنیا بھر کی آبادی کا60فیصد ہے اور ان ممالک میں عالمی ماحولیات کو نقصان پہنچانے والے ایندھن کا اخراج84 فیصد ہے۔بھارت کے ارباب اختیار کا خیال ہے کہ دنیا کے معاشی طور پر طاقتور ملکوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں اجلاس میں شرکت سے بھارت کے کشمیر سے متعلق موقف کو تقویت حاصل ہو گی اور اس سے بھارت کو لداخ کے معاملے پہ چین کے خلاف بھی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔مسئلہ کشمیر سے متعلق اس وقت تک عالمی صورتحال یہی ہے کہ عالمی برادری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کو ایسا متنازعہ خطہ تصور کرتی ہے جس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے طے کیاجانا ہے جس میں کشمیری عوام آزادانہ طورپر اپنی رائے کا اظہار کریں۔جبکہ بھارتی حکومت جی20کا سربراہی اجلاس سرینگر میں منعقد کرتے ہوئے کشمیر کے دیرینہ عالمی مسئلے کو دہشت گردی کے طورپر پیش کرنا چاہتی ہے۔اسی تناظر میں بھارتی حکومت نے جی20کے سربراہی اجلاس کے چند سیشن سرینگر میں منعقد کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔بھارتی حکومت نے سرینگر میں جی20سربراہ اجلاس کا سیشن منعقد کرانے کے لئے وزارت خارجہ کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی کمیٹی بھی قائم کی ہے جس میں مقبوضہ کشمیرکے پانچ محکموں کے سیکرٹری بھی شامل ہیں۔تاہم سرینگر میں جی20سربراہی اجلاس کے انعقاد کے لئے بھارت کے سامنے بڑی مشکل یہی ہے کہ اس اجلاس کے لئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے فوج کے سخت ترین حفاظتی انتظامات کرنا پڑیں گے تا کہ اس موقع پر کشمیریوں کی طرف سے کوئی احتجاجی مظاہرہ نہ کیا جا سکے۔اس کے لئے بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں مزید گرفتاریاں بھی کرنا پڑیں گی۔یہ صورتحال کسی طور پر بھی جی20ممالک کے وفود کے لئے نظر انداز کرنا ممکن نہ ہو گا اور اس سے کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی موضوع بن جائے گا۔