اتوار‬‮   14   اپریل‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

انسانی حقوق کا عالمی دن اور کشمیر

       
مناظر: 734 | 10 Dec 2022  

تحریر: سعید الرحمن صدیقی

10 دسمبر کو پوری دنیا میں انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے اس دن کے منانے کا آغاز 1948ء میں ‘یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس‘ کے عنوان سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے یوا تھا
انسانی حقوق کے حوالے سے اس دن ایک دستاویز تیار کہ گئی جس میں تمام بنیادی انسانی حقوق کا ذکر ہے انسانی حقوق کے اس چارٹر کا دنیا کی 500 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے اانسانی حقوق کے اس چارٹر میں دنیا کے ہر ایک شخص کو بلا امتیاز رنگ،جنس ونسل علاقہ وقوم تمام بنیادی اور ناگزیر حقوق ملنے کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے، انسانی حقوق کا عالمی دن ایک ایسے وقت میں جب مودی کی زیر قیادت بھارت میں مسلم دشمنی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے بلخصوص کشمیر اسکا بڑا نشانہ ہے جہاں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی روز کا معمول بن چکا ہے بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتئوں کیلئے ایک خطرناک ملک بن چکا ہے کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوری 1989تا دسمبر 2016 مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ 7073افراد کو بھارتی فوج اور پولیس نے حبس بے جا میں رکھ کر جھوٹی تفتیش کرتے ہوئے شہید کر دیا۔ 137,469افراد کو جھوٹے بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کر کے ہراساں کیا گیا۔ 107,043افراد کو بے گھر کیا گیا۔ 107591بچے بھارتی مظالم کی وجہ سے یتیم ہوئے۔ 22826خواتین کے سہاگ اُجڑے۔ 10,717 خواتین پر جنسی تشدد کیا گیا اور انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔وشوا ہندو پریشد کے جنونی دھشت گرد مائنڈ سیٹ کے حامل نریندر مودی حکومت کے دور میں بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی افواج سے انسانیت کی تذلیل کے لئےPSA، TADAاورAFSPجیسے کالے قوانین کشمیر میں نافذ ہیں بھارت میں نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، ہندو تو قیادت کیجانب سے مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلانات کی ویڈیو ز مسلسل سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیرپہلے ہی مودی حکومت کی طرف سے 5اگست 2019کے غیر قانونی اقدامات کے بعدسے مسلم نوجوانوں کئے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سنگھ پریوار کے ہندوتوا لیڈر بھارت اور مقبوضہ کشمیرمیں میانمار کی طرح مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔عالمی ماہرین پہلے ہی بھارت اور مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کے خطرے کے بارے میںخبردار کر چکے ہیں۔ جینوسائیڈ واچ کے بانی ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن، جنہوں نے روانڈا میں نسل کشی کی پیش گوئی 1994 میں ہونے سے کئی برس قبل کی تھی، مودی کی زیرقیادت بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا ہے ۔ اپنی تنظیم کی ویب سائٹ پرموجود 20نسل کشی کے انتباہات میں ، ڈاکٹر گریگوری نے پیش گوئی کی ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے ساتھ ساتھ بھارت کی ریاست آسام میں نسل کشیُ کاسلسلہ جارہی ہے۔

واضح ر ہے کہ ڈاکٹر اسٹینٹن 1996میں اپنی ملازمت کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے لیے تیار کردہ ‘نسل کشی کے دس مراحل’ کے لیے مشہور ہیں۔رپورٹ میں کمبوڈیا میں نسل کشی ُکے دستاویزی مرکز کے ایک محقق مونگ زرنی کابھی حوالہ دیاگیا ہے جنہوں نے یقین ظاہر کیاہے کہ ہندوستان نہ صرف نسل کشی کے دہانے پر ہے بلکہ یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔مونگ زرنی نے خصوصی عدالت کی طرف سے ضمانت منظور ہونے کے باوجودمعروف کشمیری صحافی فہد شاہ کو ابھی تک غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی قابض انتظامیہ کی طرف سے رہانہیں کیاگیا ہے صحافی فہد شاہ کے وکیل ایڈووکیٹ عمیر رونگا نے ایک ٹویٹ میں کہاہے کہ این آئی کی خصوصی عدالت نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ 2008 کے تحت آن لائن نیوز پورٹل ”دی کشمیر والا ”کے ایڈیٹر کی فہد شاہ کی ضمانت منظور کی ہے ۔تاہم انہیں ابھی تک رہا نہیں کیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ فہد شاہ کورواں سال کے آغاز میں کشمیر والا پر انسانی حقوق سے متعلق خبریں جاری کرنے پر گرفتار کیا گیا تھااورعدالت کی طرف سے ضمانت منظورہونے کے بعد آخری اطلاعات ملنے تک انہیں رہا نہیں کیا گیاتھا ایمنیسٹی انٹرنیشنل کےطابق کئی برس سے مقبوضہ کشمیر میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل ایکٹ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مختلف مقدمات میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس لئے اس کالے قانون کا فوری طور پر خاتمہ ضروری ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت بھارت کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر استثنیٰ حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث بھارتی اہلکاروں کا احتساب ممکن نہیں۔
وقت آگیا ہے کہ دنیا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ جیسے معتبر فورم پر کشمیریوں سے کیا جانب والا حق خودارادیت کا وعدہ پورا کرتے ہوئے وہاں آذادانہ استصواب رائے کا اھتمام کرے اور کشمیریوں کو موقع دیا جائے کہ اپنی تقدیر اپنی مرضی ومنشا کے مطابق پاکستان سے وابستہ کر سکیں ہمارا ایمان ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سیاہ دور کا ایک دن ضرور خاتمہ ہوگا اور بھارتی افواج کو کشمیر چھوڑ کر نکلنا پڑے گا#