بدھ‬‮   6   دسمبر‬‮   2023
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

انسانی حقوق

       
مناظر: 691 | 10 Dec 2022  

عابدہاشمی

10دسمبرکادن دنیاکوامن وامان کے ساتھ رہنے اورایک دوسرے کے حقوق کااحترام کرنے کے طورمنایاجاتاہے ۔کہنے کوتواقوام متحدہ کاچارٹراوران کے قوانین یہی کہتے ہیں کہ سب انسانوں کوبرابرحقوق حاصل ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کے حوالے سے کوئی مذہبی، نسلی یا جنسی امتیاز روا نہیں رکھا جاسکتا۔ ہر انسان آزاد اور خود مختار ہے، کسی سے رنگ ، مذہب، نسل علاقے یازبان کی وجہ سے حقوق نہیں چھینے جاسکتے ۔مہذب ممالک ہرسال یہ درس دیتے ہیں کہ انسانی رویوں میں تعصب اور امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں لیکن یہ دن بڑے احترام سے منانے کے باوجودآج بہت سے ممالک میں کڑوروں لوگوں کوبنیادی انسانی حقوق حاصل نہیںہیں۔ دنیاکے طاقتورممالک نے نام نہادمہذب ممالک اورکٹھ پتلی اقوام متحدہ سے تال میل کرکے انسان کاجوسب سے بڑا حق چھینا ہواہے وہ اس کی آزادی اورجینے کاحق ہے ۔مقبوضہ کشمیر ، فلسطین میں بھارت اور اسرائیل کے مظالم دنیاکے سامنے ہیں ۔بھارت کی انتہاپسندحکومت جن کے منشورمیں یہ شامل ہے کہ ہندوستان سے مسلمانوں ، عیسائیوں ، سکھوں اوردیگرمذاہب سمیت چھوٹی ذات کے ہندوں کوحقوق سے محروم رکھناہے ۔ بالخصوص مسلمانوں کوگھرواپسی کے نعرے کے ساتھ زبردستی ہندومذہب قبول کرنے کیلئے ددبائوڈالاجارہاہے اوران تنظیموں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کوبھارتی افواج نے کھلی جیل میں تبدیل کررکھا ہے جہاں نوجوان گھرسے باہرجاتے ہیں توانہیں یقین نہیں ہوتاکہ وہ شام کوگھرواپس پہنچ سکیںگے یاکسی اندھیرے راستے میں موت انہیں گھیرلے گی ۔مقبوضہ کشمیر وہ واحدخطہ ہے جہاںاجتماعی قبریں دریافت ہوئیں اوردنیانے یہ منظراپنی آنکھوں سے دیکھے کہ ایک ایک قبرمیں درجنوں لاشیں پڑی ہوئی ہیںاوریہ وہ نوجوان ہیں جوگھروں سے سوداسلف لینے، تعلیم حاصل کرنے یاکام کی غرض سے گھروںسے باہرنکلے لیکن واپس گھروں کونہ لوٹ سکے۔ حراست میں لے گئے افرادکی تعدادہزاروں میں نہیں بلکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائدہے جن میں خواتین بچے ، بوڑھے اورنوجوان شامل ہیں لاپتہ ہیں۔ایک لاکھ سے زائدمکانات کوتباہ اور اربوں مالیت کی املاک کو نقصان پہنچایا جاچکاہے کہ جبکہ5اگست کے بعد مسلسل فوجی محاصرے کے دوران کشمیری عوام سے ان کی زمینیں تک چھینی جارہی ہیں، کشمیری تنظیموں کوبین کرکے ان کی املاک کوہتھیانے کی بھیانک کاروائیاں جاری ہیں، جن میں سرفہرست جماعت اسلامی ہے جن کے دفاتربندکرکے ان کے سکولوں اوردیگراملاک کونئی دہلی سرکارہندوبلوائیوں میں بانٹ رہی ہے۔5اگست کے بعدقابض افواج کی مختلف کارروائیوں کے دوران حریت رہنمائوں، سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں، علمائے دین، صحافیوں، تاجروں، وکلائ، سول سوسائٹی کے ارکان، نوجوانوں، طلبا، عمر رسیدہ خواتین اور لڑکیوں سمیت 40ہزار سے زائد افراد کو مختلف کالے قوانین کے تحت گرفتار کیاجاچکاہے۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کی زندگی شدید مشکلات سے دوچار ہے اوراس اقدام کا مقصد مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے ان کی شناخت چھین لینا ہے۔مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانے میں مصروف ہے ہزاروں بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کئے جارہے ہیں جس کامقصد ممکنہ رائے شماری کے نتائج کوبھارت کے حق میں تبدیل کرنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میںاعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانو ں کوچن چن کرقتل کیاجارہاہے ۔کئی حریت راہنماجیلوں میں جرم بے گناہی کی سزاکاٹ رہے ہیں، بابائے حریت سیدعلی گیلانی کی وفات کے بعدان کے جسدخاکی بھی لواحقین کے حوالے نہ کیاگیا اورنہ ہی کشمیری عوام کوان کی آخری رسومات اورجنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی ، کئی حریت راہنمائوں کوجیلوں میں علاج ومعالجے کی سہولیات سے محروم رکھاگیااوران کے جنازے جیلوں سے نکلے ، ان کے گھروالوںکوملنے کی اجازت تک نہ دی گئی ۔ حریت راہنمایاسین ملک بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑجیل میں قیدہیںجنہیں علاج کی سہولیات سے محروم رکھاگیاہے۔ یہ وہ مظالم ہیں جودنیاکودکھائی نہیں دے رہے جبکہ دوسری طرف آبی آلودگی کی وجہ سے سمندرکے کنارے ایک مرغابی دنیاکونظرآجاتی ہے جو پرروںپرآئل لگنے کی وجہ سے اڑنے سے قاصرہوجاتی ہے، ایک مرغابی کے پردیکھ کر دنیابھرکی انسانی حقوق کی تنظیمیں چیخ اٹھتی ہیں اورانہوں نے بھرپورمہم چلائی ۔ جانوروں اورپرندوں تک کی زندگی بچانے کیلئے دنیاپوری طرح کوشاں ہیں، وسائل خرچ کیے جارہے ہیں، بجٹ مختص ہوتے ہیںلیکن مسلمانوں کے خلاف روارکھنے جانے والے رویہ کوبدلنے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔مسلمانوں کوگاجرمولی کی طرح بے رحمی سے کاٹ دیاجائے توبھی انسانی حقوق کی تنظیمیں مْذمت سے آگے نہیں بڑھتیں۔مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اورایک اپاہج معاشرہ تشکیل دینے کیلئے 5اگست کے بعد سوسے زائدایسے نوجوانوں کو قتل کیا جاچکا جو اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ ان میںگریجویٹس ،ماسٹر ڈگری ہولڈرز ،ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز شامل ہیںاوریہ نوجوان معمول کی روٹین کے مطابق اپنی زندگیاں بسرکراہے تھے کہ انہیں کسی جعلی مقابلے کانام دے کریاگھروں سے اٹھاکرشہیدکردیاگیااوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔یہ بات دنیاکی نگاہوں سے اوجھل کیسے ہوسکتی ہے کہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی ، کیمیکل ہتھیاروں ، جبری گمشدگیوں اور جھوٹے جنگی آپریشنوں میں ملوث ہے لیکن اس کے باوجودکشمیراورفلسطین سمیت جہاں بھی مسلمانوں کے حوالے سے بات آئے توخون مسلم ارزاں ٹھہرتاہے جس کی کوئی قیمت نہیں اورنہ قاتل کی کوئی سزاہے ۔ زیادہ سے زیادہ دبائوپڑنے پرنام نہادمہذہب ممالک یاعالمی ادارے کی طرف سے مذمت کردی جاتی ہے اوراس کے بعدپھروہی مظالم کا سلسلہ جاری رہتاہے لیکن آج جوانسانی حقوق کاعالمی دن منانے نکلے ہیں ان کی طرف سے مکمل خاموشی ہے ۔ یہ دورنگی ہے جس کاخاتمہ کیے بغیردنیاامن کوگہوارانہیں بن سکتی ۔ اسی ناانصافی کے نتیجے میں تشددابھرتاہے اوردنیاکیلئے خطرے کی گھنٹی بجھتی ہے پھرخیال آتاہے کہ دہشت گردی کوکیسے روکاجائے لیکن اقوام دہشت گردی کی وجوہات جاننے کے بجائے اس کے ابھرنے کے بعدخاتمہ کاسوچتی ہے جس میں کئی جانیں چلی جاتی ہیں۔ امریکہ جیسے ملک کوافغانستان سے بھاگناپڑالیکن دودھائیاں گزرنے کے بعدواشنگٹن کوسمجھ آئی کہ بنیادی مسئلہ افغانستان پرجابرانہ قبضہ ہے اسے ختم کیاجائے تویہ جنگ خودبخودختم ہوسکتی ہے جولڑنے کے دوران امریکہ مقروض ہوااورکئی ممالک کواس جنگ میںجھونک دیاگیا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانیت دشمنی کی تفصیل
From Jan 1989 till 31 October 2023
Total Killings 96,263
Custodial killings 7,317
Civilian arrested 168,571
Structures Arsoned/Destroyed 110,504
Women Widowed 22,965
Children Orphaned 1,07,924
Women gang-raped / Molested 11,259

October 2023
Total Killings 17
Custodial killings 11
Civilian arrested 78
Structures Arsoned/Destroyed 3
Women Widowed 2
Children Orphaned 10
Women gang-raped / Molested 0