ہفتہ‬‮   20   اپریل‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسماری مہم کو فوری طور پر روکا جائے، متاثرین کو معاوضہ دیاجائے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

       
مناظر: 546 | 8 Feb 2023  

سرینگر (نیوز ڈیسک )انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسماری مہم کو فوری طور پر روکنے اور متاثرہ افراد کو معاوضہ
د ینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا بورڈ کے سربراہ آکار پٹیل نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرینگر، بڈگام، اسلام آباد اور بارہمولہ سمیت مختلف اضلاع میں4فروری سے جاری مکانات اور کاروبار کی مسماری مہم پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ یہ مہم بھارت کے زیر انتظام واحد مسلم اکثریتی خطے جموں و کشمیرمیں جاری انسانی حقوق کی ظالمانہ خلاف ورزیوں میں ایک اوراضافہ ہے۔انہوں نے کہاکہ مسماری مہم جبری بے دخلی کے مترادف ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت جس کا بھارت ایک فریق ہے، ہر ایک کو مناسب رہائش کا حق حاصل ہے اوراس کے تحت جبری بے دخلی پر پابندی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں جائز ہو، بے دخلی معقولیت اور اصولوں کے مطابق کی جانی چاہیے اور اس میں معقول اور مناسب نوٹس دینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر قانونی مددکی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ متاثرین عدالتوں سے انصاف حاصل کرسکیں۔آکار پٹیل نے کہاکہ بے دخلی کی وجہ سے کسی کو بھی بے گھر یا انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کا شکار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکام کو فوری طور پر مسماری مہم کو روکنا چاہیے اور جبری بے دخلی کے خلاف حفاظتی اقدامات کی یقینی بنانا چاہیے جس طرح بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات میں بیان کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بغیر کسی امتیاز کے تمام متاثرہ افراد کو مناسب معاوضہ دیاجانا چاہیے ۔اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جبری بے دخلی کے متاثرین اس کا ازالہ کرسکیں اور ذمہ داروںکا احتساب کتاب کیا جائے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ قابض حکام نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد انسداد تجاوزات مہم کے نام پرلوگوں کے رہائشی مکانات اور دیگر املاک کو مسمار کیا ہے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور ان کے پاس جائیدادوں کی ملکیت ثابت کرنے والی دستاویزات موجود ہیں لیکن قابض حکام نے انہیں گھروں پر بلڈوزر چلانے سے پہلے اپنے دعوے ثابت کرنے کا موقع نہیں دیا۔