پیر‬‮   15   اپریل‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

راجیہ سبھا الیکشن میں بی جے پی کی شکست پر ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے، دفاعی ادارے بوکھلا گئے

       
مناظر: 432 | 29 Feb 2024  

 

ممبئی (نیوز ڈیسک) بھارت کے راجیہ سبھا انتخابات میں پارٹی لیڈر نصیر حسین کی جیت کا جشن منانے کے دوران کانگریس کارکنوں نے اسمبلی کے اندر ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاڈالے۔ بنگلورو پولیس نے معاملے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔
منگل 27 فروری کو کانگریس نے کرناٹک میں راجیہ سبھا کی 4 میں سے 3 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ کانگریس کارکنوں کی جانب سے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے کا الزام بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کی جانب سے عائد کیا گیا ہے جسے کانگریس کی جانب سے جھوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
نتائج کے اعلان کے فورا بعد بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے نصیرحسین کی جیت کا جشن مناتے ہوئے کانگریس کارکنوں کی ایک ویڈیو شیئر کی اور الزام عائد کیا کہ ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا جارہا ہے۔
مالویہ نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ، ’ کرناٹک سے راجیہ سبھا انتخاب جیتنے کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے پولیٹیکل سکریٹری نصیر حسین نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ کانگریس کا پاکستان کے ساتھ جنون خطرناک ہے۔ یہ بھارت کو تقسیم کی طرف لے جا رہا ہے۔ ہم اسے برداشت نہیں کرسکتے۔’
مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر اور کرناٹک کے رہنما سی ٹی روی سمیت کئی دیگر بی جے پی رہنماؤں نے بھی اسی دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کی۔
بی جے پی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نصیر حسین نے کہا کہ انہوں نے صرف ’نصیر حسین زندہ باد‘، ’کانگریس پارٹی زندہ باد‘، ’نصیر خان زندہ باد‘ اور ’نصیر صاحب زندہ باد‘ جیسے نعرے سُنے ہیں
نصیر حسین کے مطابق، ’میڈیاپرجو کچھ دکھایا گیا وہ میں نے نہیں سنا۔ اگر میں نے یہ سنا ہوتا تو اعتراض کرتا، بیان کی مذمت کرتا اور ان کے خلاف ضروری کارروائی کا مطالبہ کرتا۔‘
دریں اثنا انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر سرینواس بی وی نے بی جے پی کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کارکن دراصل ویڈیو میں ’نصیر صاحب زندہ باد‘ کہہ رہے تھے۔
بی جے پی پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے ہوئے سرینواس بی وی نے کہا کہ بھگوا پارٹی ’نصیر صاحب زندہ باد‘ کو ’پاکستان زندہ باد‘ سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بی جے پی رہنما منگل کی شام پولیس کے پاس اس معاملے کی شکایت درج کروانے بھی گئے تھے، لیکن بنگلورو پولیس نے خود ہیمعاملے کا نوٹس لیکر دفعہ 153 کے تحت کیس درج کیا (جو بھی جان بوجھ کر، یا نادانستہ طور پر کوئی بھی غیر قانونی کام کرکے کسی بھی شخص کو اشتعال انگیزی دیتا ہے یا یہ جانتا ہے کہ اس طرح کی اشتعال انگیزی سے فساد برپا ہونے کا امکان ہے)۔