ہفتہ‬‮   20   اپریل‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر عالمی سطح پر مسلمانوں کی نسل کشی کی وارننگ جاری کر دی گئی

       
مناظر: 971 | 9 Dec 2022  

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک ایسے وقت میں جب مودی کی زیر قیادت بھارت میں اسلامو فوبیا کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ،بھارت اور اسکے غیر قانونی طور پرزیر قبضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کو نسل کشی کا سامنا ہے بلکہ بعض ماہرین کے مطابق یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے نسل کشی کے جرائم کے متاثرین کی یاد اورانکے وقار کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت مسلمانوں کیلئے ایک خطرناک ملک ہے۔ بھارت میں مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، ہندو توالیڈروں کی طرف سے مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلانات کی ویڈیو ز مسلسل سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرپہلے ہی مودی حکومت کی طرف سے 5اگست 2019کے غیر قانونی اقدامات کے بعدسے مسلم نوجوانوں کئے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سنگھ پریوار کے ہندوتوا لیڈر بھارت اور مقبوضہ کشمیرمیں میانمار کی طرح مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق عالمی ماہرین پہلے ہی بھارت اور مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کے خطرے کے بارے میںخبردار کر چکے ہیں۔ جینوسائیڈ واچ کے بانی ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن، جنہوں نے روانڈا میں نسل کشی کی پیش گوئی 1994 میں ہونے سے کئی برس قبل کی تھی، مودی کی زیرقیادت بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا ہے ۔ اپنی تنظیم کی ویب سائٹ پرموجود 20نسل کشی کے انتباہات میں ، ڈاکٹر گریگوری نے پیش گوئی کی ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے ساتھ ساتھ بھارت کی ریاست آسام میں نسل کشیُ کاسلسلہ جارہی ہے۔
واضح ر ہے کہ ڈاکٹر اسٹینٹن 1996میں اپنی ملازمت کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے لیے تیار کردہ ‘نسل کشی کے دس مراحل’ کے لیے مشہور ہیں۔رپورٹ میں کمبوڈیا میں نسل کشی ُکے دستاویزی مرکز کے ایک محقق مونگ زرنی کابھی حوالہ دیاگیا ہے جنہوں نے یقین ظاہر کیاہے کہ ہندوستان نہ صرف نسل کشی کے دہانے پر ہے بلکہ یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔مونگ زرنی نے ان خیالات کا اظہار رواں سال کے آغاز میں انڈیا آن دی برنک: پریوینٹنگ جینوسائڈ کے عنوان سے تین روزہ عالمی سربراہی اجلاس کے دوران کیاتھا۔رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بھارت اور مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور مسلمانوں کے قتل عام سے روکنے کیلئے مودی حکومت کو مجبور کرے ۔