جمعرات‬‮   29   فروری‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

ترکیہ زلزلے کی پیش گوئی کرنےوالا ڈچ ریسرچر کون ، ہارپ ٹیکنالوجی کی دنیا بھر میں تباہ کاریاں ، رپورٹ

       
مناظر: 508 | 13 Feb 2023  

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) 6 فروری 2023ء کو جنوبی اور وسطی ترکیہ میں خوفناک زلزلہ آیا۔ جس سے نتیجے میں ترکیہ اور شام میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات ہوئے۔ زلزلے کی شدت کم از کم 7.8تھی جس کے بعد تین آفٹر شاکس بھی آئے ۔ حیرت انگیز طور پر اس زلزلے کی پیشگوئی ایک ڈچ محقق ” فرینک ہوگربیٹس “نے 3 فروری کو ہی کردی تھی ۔ ” فرینک ہوگربیٹس ایک ادارے ” سولر سسٹم جیومیٹری سروے ” سے وابستہ ہیں ، مذکورہ ادارے نے 30 جنوری کو پاکستان ، افغانستان ، چین اور بنگلہ دیش میں شدید ارضیاتی سرگرمی کا خدشہ ظاہر کیا ، جس کی بنیاد پر پاکستان میں بھی ممکنہ زلزلے کی چہ مگوئیاں ہونے لگیں ، جنہیں پاکستان کے محکمہ موسمیات نے مسترد کردیا۔

ڈچ سائنسدان فرینک ہوگربیٹس اور ان کے ادارے کا دعویٰ ہے کہ سیاروں کا محل وقوع زلزلوں کا سبب بنتاہے جبکہ سائنسدانوں کی اکثریت اس سے متفق ہے کہ زلزلے کی پیشگوئی کرنےکا فی الوقت کوئی سائنسی طریقہ موجود ہی نہیں ہے۔ لہذٰا ڈچ سائنسدان کی باتیں پیشگوئیاں کم اور دعوی زیادہ لگتی ہیں ،جن کا کوئی سائنسی لاجک وجود نہیں رکھتا ۔ دجالی کارٹون” سمپسن ” نے بھی 2023 میں پاکستان کو ایک تباہ کن زلزلے اور ایک پراسرار آگ کی لپیٹ میں آتے اور ان حادثات میں بہت زیادہ آبادی کو شدید جانی و مالی نقصانات اٹھاتے بھی دکھایا ۔
سمپسن کارٹون 27 دسمبر 1989 میں شروع ہوا، اس کارٹون پروگرام کو شروع کرنے والا “میٹ گرؤننگMatt Groening
” ہے جو کہ “Agnosticism” کا قائل ہے، جوکہ ایک نیا مذہبی عقیدہ ہے ،جس کے پیروکاروں کے مطابق خدا کے وجود کو justify نہیں کیا جاسکتا،لیکن یہ لوگ دوزخ کے وجود کے قائل ہیں ۔ 9/11 کا واقعہ، کرونا وباء آنا اور شام میں خانہ جنگی ” سمپسن کارٹون” کی سچ ثابت ہونے والی پیشگوئیوں کی چند بڑی مثالیں ہیں۔

چونکہ مستقبل میں جھانک کر کوئی نہیں دیکھ سکتا ، ایسا لگتاہےکہ عالمی معاملات کو manage کیا جارہا ہے ، یہودیوں کا عالمی سرمایہ دارانہ نظام پر مکمل کنٹرول ہے ۔ ” میٹ گروننگ” صہیونی نیو ورلڈ آرڈر کو نافذ کرنے والی خفیہ یہودی تنظیم ” ایلومیناتی “کے نظریات پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان میں زلزلے اور تباہی کے دعوےکوئی سوچی سمجھی رونمائی تو نہیں تھی ؟ جیسا کہ ڈچ محقق کے ترکی میں زلزلے کی پیشگوئی کے چند روز بعد ہی کچھ عجیب وغریب واقعات رونما ہونے کا دعویٰ کیاگیا کہ ایک امریکی بحری جہاز ترکیہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا، امریکہ نےاپنا سفارت خانہ بند کردیا ، آسمان میں عجیب وغریب نیلی کڑک دار روشنی نمودار ہوئی اور زلزلہ آگیا۔ شکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ترکیہ اور شام میں آنے والا زلزلہ امریکی خفیہ ٹیکنالوجی ”HAARP“ کا نتیجہ ہے۔

اس سےقبل کئی حلقوں نے پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے پیچھے بھی ہارپ ٹیکنالوجی کے استعمال ہونے کے شبہات کا اظہار کیاہے۔
ہارپ (انگریزی: high frequency active auroral research program) جس کو مختصراً HAARP کہا جاتا ہے، یہ آئیونی کرہ سے متعلق ایک مبینہ تحقیقی پروگرام ہے، جس میں مشترکہ طور پر امریکی فضائیہ بحریہ، جامعہ الاسکا اور ڈارپا سرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔اس پروگرام کا مقصد کرۂ ہوا کا سب سے بالائی حصہ آئونی کرہ (ionosphere) کا تحلیلی و تجزیاتی مطالعہ اور کرہ آئونی ٹیکنالوجی کی صلاحیت کی تحقیق کرنا ہے تاکہ اطلاعات و ابلاغیات اور مواصلاتی کارکردگی اور نگرانی میں بہتری لائی جاسکے۔ یہ پروگرام ایک قطب شمالی ادارہ ہارپ ریسرچ اسٹیشن کے زیر انتظام کام کررہاہے۔ یہ ادارہ امریکی ریاست الاسکا کے علاقہ” گاکونا” سے قریب واقع ہے جو امریکی فضائیہ کی ملکیت ہے۔

ہارپ ریسرچ اسٹیشن میں سب سے اہم آلہ کرہ آئونی تحقیقی آلہ (انگریزی: ionospheric research instrument) ہے۔ یہ ایک طاقتور ترین برقناطیسی تعددات کو نشر کرنے والے ترسیلہ (transmitter) کی صلاحیت کا حامل آلہ ہے جس میں 180 محاسات (antennas) موجود ہیں۔ مگرکیا صرف تحقیقی مقصد کیلئے ہی امریکی فوج طویل عرصے سے اس پر سرمایہ کاری کررہی ہے؟ ہرگز نہیں !!! بلکہ یہ دشمن ممالک کےخلاف موسمیاتی ہتھیاروںکے استعمال کا منصوبہ بھی ہے اور اس میں امریکہ کی فضاؤں میں ایسا نظام تیارکرنے کا پروگرام بھی شامل ہے ،جس کی مدد سے امریکہ پر داغے جانے والے کسی بھی میزائل یا ایٹم بم کو فضا میں ہی تباہ کیاجاسکے۔
ہارپ اسٹیشن” پر کام کا آغاز 1993ء میں ہوا۔ اس کام میں ہارپ کا سب سے بڑا ٹھیکیدار ایک برطانوی ادارہ BAE Systems تھا۔ بظاہر اس پروگرام کا مقصد ” ریڈیو کمیونیکیشن ٹینکنالوجیز ” کو بڑھانا ہے ، مگر اس پروگرام اصل مقصد موسمی واقعات میں ہیرپھیر کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا تھا ۔

تین بلین واٹ الیکٹرومیگنیٹک ویوز پیدا کرکے آئنو سفیر میں بھیج کر مصنوعی موسمی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں ، زمینی ذخائر کی تلاش کی جاسکتی ہے، وائرلیس کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا حصول ممکن بنایا جاسکتاہے۔زمین کے اوپر فضا کی مختلف تہوں میں سے ایک کا نام ” آئنو سفیر” ہے، جس کی موٹائی سطح زمین سے 70 سے 300کلو میٹر تک ہے،جو بےشمار مثبت اور منفی آئنز پرمشتمل ہے۔”الاسکا” میں موجود اس پروجیکٹ کے کیمپ میں لگے” اینٹیناز” کی مدد سے طاقتور” الیکٹرومیگنیٹک ویوز ” کو” آئنو سفیر” میں بھیج کربہت زیادہ حدت پیدا کرکے موسم میں غیر معمولی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں،اس کی مدد سے ایک طرف کسی خطے کو بارشوں سے محروم کرکے بنجر بنایا جاسکتا ہے تو کسی خطے میں حد سے زیادہ مصنوعی بارشیں برسا کر سیلابی صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے۔اس پراجیکٹ کی مدد سے “آئنو سفیر” کا درجہ حرارت غیرمعمولی حد تک بڑھایا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں بہت کم فریکوئنسی کی لہریں پیدا ہوتی ہیں،جن کا رخ زمین کی طرف موڑ دیا جاتا ہے،ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد بھی یہ لہریں پھیلتی نہیں اور نہ ہی ان کی توانائی ختم ہوتی ہے،اس لیے ان کی مدد سے انرجی کی بہت بڑی مقدار کو فضا یا زمین کے مخصوص حصے پر فوکس کرکے منتقل کرنے سے بہت زیادہ درجہ حرارت کا پلازما پیدا کیا جاسکتا ہے، جس سے جنگلوں میں بھی آگ لگائی جاسکتی ہے ، اڑتے جہاز کے انجن کو آگ لگا کر گرایا جاسکتا ہے، گلیشئرز کو مصنوعی طور پر پگھلایا جاسکتا ہے، اس پروجیکٹ میں 180 کے قریب اینٹیناز ہیں،جو تقریباً 72 فٹ اونچے ہیں،سب انٹیناز کو اس ترتیب سے جوڑا گیا ہے کہ ان سب سے نکلنے والی شعاعیں اکٹھی کرکے بھیجی جاسکتی ہیں،اس طرح یہ سب اینٹیناز ایک بڑے اینٹیناکا کام کرتے ہیںاور فضاء میں ٹنوں کے حساب سے انرجی بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،جس سے ELF ویوز پیدا ہوتی ہیں،جس سے فضا میں 3.6 ملین کی طاقتور شاعیں پہنچتی ہیں،جو کسی بھی اڑتے جہاز کے انجن کو پگھلا سکتی ہیں۔

مختصر یہ کہ HAARP سسٹم فضاء میں بے شمار انرجی بھیج کر تباہ کن موسمی تبدیلیاں لارہاہے ۔ پاکستان میں تباہ کن سیلابوں کے پیچھے بھی ہارپ ٹیکنالوجی کی کارستانی ہونے کا شک وشبہ قابلِ توجہ ہے۔ ہارپ کی وجہ سے زمین کے اندر موجود پلیٹس کے سرکنے کے سبب زلزلوں کا خدشہ بھی ہے۔ ہارپ پروجیکٹ ہمیشہ ہی تنقید کی زد میں رہا ، امریکہ نے بارہا اسے بند کرنے اعلانات کیے، کبھی کہا جاتا رہا کہ ہم ابھی تک اس ٹیکنالوجی میں کامیاب نہیں ہوئے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس جیسے کئ خفیہ منصوبے دنیا بھر میں مختلف مقامات پر لگائے جارہے ہیں۔
روس یوکرین جنگ کے تناظر میں امریکہ کے ترکی کے ساتھ شدید اختلافات سامنے آئے ،امریکہ نے ترکیہ پرعدم تعاون کا الزام عائد کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ ترکیہ امریکہ کے زیر کمان قائم ” نیٹو اتحاد” کا رکن بھی ہے۔ ترکیہ ” سویڈن اور فن لینڈ “کی نیٹو اتحاد میں شمولیت کے سخت خلاف ہے ، یہ سب کچھ بھی امریکہ کی ترکیہ سے کشیدگی میں اضافے کا سبب بنا۔ اب جبکہ معاہدہ لوزان کی روسے عائد پابندیاں ختم ہونے کو ہیں ،تمام تر سمندری راہداریاں ترکیہ کے کنٹرول میں چلی جائیں گی ، ترکیہ کو یہ حق مل جائے گا کہ وہ سمندر سے تیل اوردیگرمعدنیات نکال سکےگا۔ شاید اسی لیے امریکہ نے ہارپ ٹیکنالوجی کی مدد سے ترکیہ پر مبینہ طورپر وار کیاہے۔ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو نے متنازع کارٹون شائع کرکے ترکیہ اور شام کے زلزلہ متاثرین کا مذاق اڑایا۔” آرٹسٹ پیئرک جوئن” کی ڈرائنگ میں ملبے کے ڈھیر کے درمیان منہدم عمارتوں کو دکھاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یہاں ’’ٹینکس بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔”ایسےالمناک سانحے پر ایسا طنزیہ رویہ کافی معنی خیز ہے ، سوچئیے
گا ضرور۔