اتوار‬‮   14   اپریل‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

بھارت کشمیریوں کی زمینیں ہتھیا کرمقبوضہ جموں وکشمیرمیں نوآبادیاتی منصوبے پر عمل پیرا ہے: رپورٹ

       
مناظر: 983 | 12 Feb 2023  

سرینگر(نیوز ڈیسک) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںبھارت کشمیریوں سے زیادہ سے زیادہ زمینیں ہتھیا کر اپنے نوآبادیاتی منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت 1947سے جب اس کی فوجیں 27اکتوبر 1947کوتقسیم برصغیر کے منصوبے اور کشمیریوں کی امنگوں کے برخلاف غیر قانونی طور پر سرینگر میں اتری تھیں، کشمیر کو اپنی کالونی سمجھ رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ 5اگست 2019کو مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کا مودی حکومت کاغیر قانونی اقدام کشمیر کو ایک نوآبادی بنانے کی جانب ایک اور قدم تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکو اپنی کالونی بنانا طویل عرصے سے راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا خواب رہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ مقامی آبادی کو نظرانداز کرنا اور زمینوں پر قبضے کی پالیسیاں مقبوضہ علاقے میں مودی کے نوآبادیاتی منصوبے کی واضح مثالیںہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا ہندوتوا قوتوں کا خواب رہا ہے۔بھارت اپنے نوآبادیاتی منصوبے کے تحت غیر کشمیری ہندوئوں کو علاقے میں آباد کر کے مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے۔ رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بھارت بھاری تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی کے ذریعے کشمیر کے قدرتی وسائل کا بے دریغ استحصال کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کشمیر میں نوآبادیاتی منصوبے کو توسیع دینے کے لیے بھارتی کاروباری کمپنیوں اور ٹائیکونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کا نوآبادیاتی منصوبہ ان ہی خطوط پر آگے بڑھ رہا ہے جس طرح اسرائیل نے فلسطین میں زمینوں پر قبضہ کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نوآبادیاتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مودی کی ننگی جارحیت پر عالمی سطح پر خاموشی چھائی ہوئی ہے اور دنیا کو مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی استعماریت کے بارے میں اپنی خاموشی توڑنی چاہیے اور تنازعہ کشمیر کو عالمی ادارے کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا چاہیے۔