اتوار‬‮   25   فروری‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

بھارتی مسلم دشمنی ، اسلام نگر کے بعد ایک اورمسلم علاقے کا نام بدلنے کی تیاری

       
مناظر: 688 | 4 Feb 2023  

لاہور ( نیوز ڈیسک ) جس کا ڈر تھا وہی بات ہو گئی بی جے پی حکومت کی جانب سے بھوپال کے اسلام نگر کا نام بدل کر جگدیش پور رکھنے کے صرف ایک دن بعد ہندوانتہا پسندوں نے”حلالپور” کا نام بھی بدلنے کا مطالبہ کر دیا جس پر سیاسی جنگ چھڑ گئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں حکومت مسلم بادشاہوں اور مسلم نوابوں کے ذریعے تعمیر کئے گئے تاریخی مقامات کا نام ایک ایک کرکے بدل رہی ہے جس پر حکومت اور مسلم تنظیمیں آمنے سامنے آگئی ہیں اور اب اس معاملے کو لے کر مسلم تنظیموں نے عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
مدھیہ پردیش میں حبیب گنج ریلوے اسٹیشن، ہوشنگ آباد اور اسلام نگر کا نام بدلے جانے کے بعد جہاں برسر اقتدار جماعت جشن منا رہی ہے تو وہیں کانگریس نے دبے لفظوں میں مسلم تنظیموں کی حمایت کر کے حکومتی اقدام کے خلاف تحریک شروع کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جنگ چھڑ جانے کے بعد حکومت حلالپور کا نام بدلنے کا انتہا پسندوں کامطالبہ پورا کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں ؟۔
مدھیہ پردیش علما ءبورڈ کا کہنا ہے کہ مسلم بادشاہوں نے ہزار سال اگر حکومت کی تو یہ حکومت امن پر مبنی تھی جبر ہوتا تو کسی اور قوم کے لوگ یہاں نہ ہوتے۔ حکومت تاریخی مقامات اور شہروں کے نام بدل کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ سرکار یہ بتائے جن مقامات کے نام اب تک بدلے گئے ہیں وہاں ترقی کے نام پر کیاکیاگیا ؟ اس معاملے کو لیکر علماء بورڈ صوبائی میٹنگ کرے گا اور پھر عدالت سے رجوع کرنے کا خاکہ تیار کیا جائے گا۔
اس معاملےپر بی جے پی کے سینئر لیڈر و بیرسیہ حلقہ سے رکن اسمبلی وشنو کھتری نے کھلم کھلا اعلان کیا ہے کہ ” اسلام نگر کا نام بدلنےکیلئے 2008ء میں تحریک شروع کی گئی تھی۔ اس معاملے میں مرکز سے لیٹر بھی آیا تھا، لیکن کانگریس کی حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ اس لیٹر کو دبا دیا گیا تھا۔ اب بی جے پی حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے وہ عوام کے دل کی آواز ہے۔ اب اسلام نگر نہیں بلکہ جگدیش پور رہے گا اور یہاں پر اپنی تہذیبی شناخت کو قائم کرنے کے لئے سوامی جگدیش کے نام سے عالیشان مندر قائم کیا جائے گا۔ اسلام نگر کا بدلے جانے کے بعد اب حلالپور ڈیم کا نام بدلنے کو لیکر بھی تحریک شروع کردی گئی ہے اور جلد ہی اس معاملے میں بھی بڑی کامیابی ملے گی”۔
دوسری جانب بھارتی تاریخ داں رضوان انصاری کہتے ہیں کہ” کسی قلعے کو منہدم کرکے یا مندر کو گراکر اسلام نگر نہیں بسایا گیاتھا۔ اسلام شاہ ایک بزرگ گزرے ہیں جن کے نام پربھوپال ریاست کے بانی سردار دوست محمد خان نے اس قلعے کو بسایا تھا اور یہ زمین رانی کملا پتی نےانہیں تحفے میں دی تھی۔اسلام نگر قلعہ کو کسی جبر سے جوڑ کر دیکھنا ٹھیک بات نہیں ہے”۔
مدھیہ پردیش کانگریس کے سکریٹری عبدالنفیس اس معاملے پر کہتے ہیں کہ”2023ء میں مدھیہ پردیش اسمبلی کے انتخابات ہونے ہیں اور انتخابات کو لیکر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ذریعے جو سروے کرایاگیا ہے اس میں ان کی پوزیشن اچھی نہیں۔اس لئے عوام کو گمراہ کرنے کو لیکر مختلف مسلم علاقوں کے ناموں کو بدلا جارہا ہے ۔ نام بدلنے کا فیصلہ اس دن کیاگیا جس دن مرکزی حکومت کا بجٹ آنا تھا تاکہ بھارتی عوام بجٹ ،مہنگائی اور دوسرے پہلوؤں پر سوال نہ پوچھیں۔اسلام نگر بھوپال ریاست کے بانی دوست محمد خان کے ذریعہ ضرور قائم کیاگیاتھا لیکن انہوں نے کبھی بھی جگدیش پور کا نام نہیں بدلا۔یہی نہیں رام پور اور سیتاپور میں بھی مسلم ریاست رہے ہیں لیکن انہوں نے بھی کبھی ان ناموں کو نہیں بدلا”۔