جمعرات‬‮   29   فروری‬‮   2024
پاکستان سے رشتہ کیا     لا الہ الا الله
پاکستان سے رشتہ کیا                    لا الہ الا الله

مسلمانوں کیلئے ’چاقو تیز رکھو،‘ بی جے پی خاتون رہنما کی مسلمانوں کو دھمکی پر عوام کا شدید رد عمل

       
مناظر: 200 | 30 Dec 2022  

ممبئی (نیوز ڈیسک ) انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمنٹ پرگیا سنگھ ٹھاکر ایک بار پھر خبروں میں ہیں اور اس کی وجہ ان کی طرف سے ریاست کرناٹک میں کی جانے والی ایک مسلمان مخالف تقریر ہے۔

اتوار کو کرناٹک میں ایک جلسے کے دوران کی گئی تقریر میں بی جے پی کی بھوپال سے منتخب رکن پارلیمنٹ پرگیا سنگھ ٹھاکر نے مسلمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’لَو جہاد کرنے والوں کو لَو جہاد جیسا جواب دو۔ اپنی لڑکیوں کو محفوظ رکھو۔‘
خیال رہے بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں کے حامیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ان سے شادی کر لیتے ہیں اور ان سے جبری طور پر مذہب تبدیل کرواتے ہیں اور اسی کو انھوں نے ’لَو جہاد‘ کا نام دیا ہے۔
پرگیا سنگھ ٹھاکر نے جلسے میں بیٹھے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے گھر میں ہتھیار رکھو۔ اور کچھ نہیں تو اپنے گھر میں سبزیاں کاٹنے والے چاقو ہی تیز رکھو۔‘
بی جے پی کی رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ ’ہمارے گھروں میں بھی سبزی کاٹنے کے لیے ہتھیار تیز ہونا چاہیے۔ جب ہماری سبزی اچھے سے کٹے گی تو پھر دشمنوں کے منہ اور سر بھی اچھے سے کٹیں گے۔‘
سوشل میڈیا پر پرگیا سنگھ ٹھاکر کی تقریر کے بعد انڈیا میں ہی صارفین ان پر تنقید کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ایک انڈین صحافی نے لکھا کہ ’ایسا ملک جہاں عمر خالد جیل میں سڑ رہا ہو اور پرگیا ٹھاکر تقاریر کے آزاد ہو وہاں کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔‘
عمر خالد نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور بغاوت کے مقدمے میں جیل میں بند ہیں۔
لکھاری تولین سنگھ نے ایک ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ ’میڈیا پر ہم سب کو ایک سوال پوچھنا چاہیے کہ ہم بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ کی طرف سے مسلمانوں کو مارنے کی کھلی دھمکیوں کو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں؟ کیا پرگیا ٹھاکر کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی؟‘
انڈین میڈیا سے منسلک ایک اور شخصیت سمنتھ رامن نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ تشدد پر اکسانے کی واضح کال ہے۔ قانون کے مطابق ان (پرگیا سنگھ ٹھاکر) کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’انہیں ہندو کہنا مذہب کو شرمسار کرنے کے مترادف ہے۔‘
انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے متعدد درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں لیکن پولیس نے اس پر اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔